13 جولائی 2014 - 10:54
فلسطینی بچوں کی موت، صیہونیوں کی تفریح کا باعث

ایک وقت تھا جب ظالم و جابر حکمران اور غلاموں کو شیروں اور خوں خوار جنگلی جانوروں کے آگے ڈال کر ان کے تڑپنے اور بلكنے کا منظر دیکھ کر خوش ہوتے اور قہقہے لگاتے تھے، لیکن آج کے جدید زمانے میں ان ظالموں کی جگہ صیہونیوں نے لے لی ہے.

ابنا: غزہ کی پٹی پر بموں اور میزئلوں کی بارش کرکے خواتین اور بچوں کو خون میں لت پت کرنے والے اسرائیلی جنگی طیارے جب پرواز کرتے ہیں تو مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے صیہونی تالیاں بجاتے ہیں اور خوشی سے دیوانوں کی طرح ناچنے لگتے ہیں.

ڈنمارک کے ایک صحافی نے اپنی آںکھو سے یہ وحشیانہ مناظر دیکھے ہیں اور ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ شیئر کی ہیں.

صحافی نے بتایا کہ اسرائيليوں نے سديورت شہر کی پہاڑی پر ایک عارضی سینما بنا لیا جہاں بیٹھ کر وہ غزہ کی پٹی پر بمباری ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں.

یہ لوگ اپنے گھروں سے کرسیاں اٹھا کر لاتے ہیں اور پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر فلسطینی بچوں، خواتین اور بوڑھوں کی لاشیں گرتی ہوئی دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں.

مشرق وسطی کی رپورٹنگ کرنے والے اس ڈنمارک کے صحافی نے جو تصاویر شیئر کی ہیں ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی مرد اور خواتین فلسطینیوں کے گھروں پر بمباری کے منظر دیکھ کر چہک اٹھتے ہیں اور خوشی سے ناچنے اور گانے لگتے ہیں.

ٹوئیٹر پر بھی لاکھوں لوگوں نے ان تصاویر کو دیکھا ہے اور اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے.

ایک ٹوئیٹ میں ایک شخص نے لکھا ہے کہ میں یہ دیکھ کر حیران اور پریشان ہوں کہ اخلاقی اور انسانی اقدار اتنا زوال پذیر ہو جائیں گی کہ انسانوں کی ہلاکتیں اور ان کی لاشیں لوگوں کی تفریح کا ذریعہ اور ان کے لئے کھیل تماشے کا سبب بنیں گی.

ایک اور ٹوئیٹ ہوا ہے کہ یہ قدم غیر انسانی ہے، اور ایسا کرنے والے اسرايليوں پر لعنت ہے۔

ایک دوسرے ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے کہ صیہونی انسانوں کے قتل کے واقعات کو ایک عام سی بات میں تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں.

.......

/169